Amiruddin Ansari Devoted His Life to Cricket: Moin Khan
He set examples of integrity and discipline as a match referee; Tauseef Ahmed and others pay tribute.
KARACHI (Sports Reporter): Amiruddin Ansari dedicated his entire life to the service of cricket. As a match referee for the Pakistan Cricket Board (PCB), he supervised over 500 domestic matches, consistently setting benchmarks for integrity, discipline, and impartiality while carving out a distinct identity for himself.
These views were expressed by former Pakistan captain Moin Khan, former Test cricketer Tauseef Ahmed, senior sports journalist Abdul Majid Bhatti, and others while addressing a ceremony held in his honor. The event was organized by the Sports Committee of the Karachi Press Club (KPC). Attendees included PPDCA President Imran Balwani, KPC Secretary Aslam Khan, Naseem Rajput, Atiq-ur-Rehman, cricket organizers, former players, disabled cricketers, and prominent figures from sports circles.
Tributes from Cricket Legends
Moin Khan: “Amiruddin Ansari is a very sophisticated, hardworking, and high-character individual who served cricket exemplarily in silence. Throughout my career, I always saw him as a principled and dignified personality. He supervised over 500 First-Class, List A, and domestic matches, always upholding the highest standards of fairness.”
Tauseef Ahmed: “Ansari’s greatest qualities are his consistency and love for the game. Remaining active in cricket fields for years and fulfilling every responsibility with honesty is no small feat. His services for disability cricket are exemplary; providing sports opportunities to persons with disabilities is a great social service.”
Abdul Majid Bhatti: “The history of Pakistan cricket is written not just by great players, but also by the administrators and officials who work behind the scenes. The media should highlight such individuals so the new generation knows how many people contribute to the development of the sport.”
A Legacy of Service
As the Secretary of the Pakistan Disability Cricket Association (PDCA), Amiruddin Ansari served tirelessly for 18 years to promote cricket for persons with disabilities, organizing dozens of tournaments across the country.
At the conclusion of the ceremony, he was presented with a commemorative shield, traditional Ajrak, and flowers, while the participants gave him a standing ovation. In his brief address, Amiruddin Ansari thanked the guests, stating that cricket has been his life and today he felt rewarded for his hard work. He pledged to continue promoting Pakistan cricket, especially disability cricket, in the future.
امیر الدین انصاری نے اپنی زندگی کرکٹ کے لئے وقف کئے رکھی:معین خان
انہوں نے میچ ریفری کے طور پر دیانتداری اور نظم و ضبط کی مثالیں قائم کیں،توصیف احمد اور دیگر کا خراج تحسین
کراچی (اسپورٹس رپورٹر) امیر الدین انصاری نے اپنی پوری زندگی کرکٹ کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میچ ریفری کے طور پر 500 سے زائدڈومیسٹک میچز سپروائز کئے۔ ہمیشہ دیانتداری، نظم و ضبط اور غیر جانبداری کی مثال قائم کی اور اپنی الگ پہچان بنائی۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان،سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد،سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی اور دیگر نے ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا انعقاد کراچی پریس کلب میں کلب کی اسپورٹس کمیٹی نے کیا تھا۔تقریب میں پی پی ڈی سی اے کے صدر عمران بلوانی ،کے پی سی کے سیکریٹری اسلم خان ،نسیم راجپوت ،عتیق رحمان ،کرکٹ آرگنائزرز، سابق کھلاڑیوں، ڈس ایبلڈ کرکٹرز اور اسپورٹس حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سابق قومی کپتان معین خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امیر الدین انصاری ایک نہایت نفیس، محنتی اور باکردار شخصیت ہیں جنہوں نے خاموشی کے ساتھ کرکٹ کی بے مثال خدمت کی،امیر الدین انصاری نے اپنی پوری زندگی کرکٹ کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میچ ریفری کے طور پر 500 سے زائد فرسٹ کلاس، لسٹ اے، ڈومیسٹک اور دیگر اہم میچز کی نگرانی کی اور ہمیشہ دیانتداری، نظم و ضبط اور غیر جانبداری کی مثال قائم کی۔ میں نے اپنے کیریئر میں امیر الدین انصاری کو ہمیشہ ایک بااصول اور باوقار شخصیت کے طور پر دیکھا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد نے کہا کہ امیر الدین انصاری کی سب سے بڑی خوبی ان کی مستقل مزاجی اور کھیل سے محبت ہے۔ کئی برس کرکٹ کے میدانوں میں متحرک رہنا اور ہر ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھانا آسان کام نہیں۔ ڈس ایبلٹی کرکٹ کے لیے ان کی خدمات قابلِ تقلید ہیں کیونکہ خصوصی افراد کو کھیل کے مواقع فراہم کرنا ایک بہت بڑی سماجی خدمت بھی ہے۔سینئر اسپورٹس جرنلسٹ ماجدبھٹی کا کہناکہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ صرف بڑے کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان منتظمین اور آفیشلز سے بھی عبارت ہے جو پسِ پردہ رہ کر کام کرتےہیں۔ میڈیا کو بھی ایسی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ کھیل کی ترقی میں کتنے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔پاکستان ڈس ایبلٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری کی حیثیت سے امیر الدین انصاری نے اٹھارہ برس تک خصوصی افراد کی کرکٹ کے فروغ کے لیے انتھک خدمات انجام دیں۔ اس دوران ملک بھر میں درجنوں ٹورنامنٹس منعقد کروائے۔تقریب کے اختتام پر امیر الدین انصاری کو یادگاری شیلڈ،اجرک اور پھول پیش کیے گئے جبکہ شرکاء نے کھڑے ہو کر ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اپنے مختصر خطاب میں امیر الدین انصاری نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ان کی زندگی کا حصہ رہی ہے اور آج انہیں اپنی محنت کا صلہ مل گیا۔ وہ مستقبل میں بھی پاکستان کرکٹ خصوصاً ڈس ایبلٹی کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
فوٹو کیپشن :پی سی بی میچ ریفری امیر الدین انصاری اپنے ا عزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں،سابق قومی کپتان معین خان،توصیف احمد، عبدالماجد بھٹی،پی پی ڈی سی اے کے صدر عمران بلوانی،نسیم راجپوت،اسلم خان،عتیق رحمان اور دیگر بھی موجود ہی